The Haqqani Network in Kurram

By Reza Jan, Jeffrey Dressler

This paper details the expansion of the Haqqani Network in Pakistan’s tribal areas through peace accords signed between rival Sunni and Shia factions in Kurram Agency, Pakistan. The peace accords brought nearly four years of continuous fighting to an end. Despite the appearance of legitimacy, the peace accords were manipulated by the Afghanistan-focused Haqqani Network to serve its own ends. In exchange for brokering the peace between Sunnis and Shias, the Haqqanis allegedly received the authority to operate through Shia-controlled terrain in central and upper Kurram which will aid their ongoing insurgency against Afghan and coalition forces throughout eastern Afghanistan. The Haqqanis have also demonstrated their growing power and influence in the Pakistani tribal region in areas beyond their historical stronghold of neighboring North Waziristan Agency.

The Haqqani Network is Afghanistan’s most capable and sophisticated insurgent network. The Haqqanis enjoy sanctuary in the tribal areas in Pakistan along the border with Afghanistan. With the backing of elements within the Pakistan security establishment, the Haqqanis have used their sanctuary in the North Waziristan Agency of Pakistan to operate across the border in southeastern Afghanistan.

In response to increased coalition activity against the Haqqani Network in both Pakistan (via drones) and Afghanistan (via Special Operations Forces), the Haqqanis have increasingly sought new Pakistani sanctuary and additional infiltration routes in order to continue to battle coalition forces for control of southeastern Afghanistan. The Haqqani Network has increasingly turned their attention to Kurram Agency over the past several years as a potential sanctuary for the Haqqanis and affiliated terrorist organizations.

Kurram is a region of special strategic importance to Afghanistan-focused insurgents. It served as a base to the Afghan Mujahideen during the war against the Soviet Union in the 1980s. Kurram remains coveted terrain today as it facilitates convenient access to several Afghan provinces and is also the shortest route to Kabul from anywhere in Pakistan. …

Read more :  criticalthreats.org
http://www.criticalthreats.org/pakistan/reza-jan-jeffrey-dressler-haqqani-network-in-kurram-may-9-2011

One thought on “The Haqqani Network in Kurram”

  1. اصل حقائق۔۔۔اور تصویر کا دوسرا رخ
    دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
    اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
    آپ کے ویب سائٹ حقانی نیٹ ورک کا نیا مسکن پاراچنار۔۔۔کے عنوان سے شائع شدہ آرٹیکل میں آپ نے حقیقت بیان کرنے کی بجائے حقیقت چھپائی ہے۔۔۔حقانی نیٹ ورک کو پاراچنار میں ستمبر 2010 میں
    پاراچنار کے اصل دشمنوں سیاسی و مالی مفادات کے حامل اور خفیہ اداروں کے ٹشو پیپرز پیش امام نواز گلگتی و ساجد طوری۔۔۔۔ نے بسایا تھا جس کی بدولت خفیہ اداروں نے ساجد طوری کے زریعے پیش امام نواز گلگتی کو اسلام آباد میں عالیشان بنگلہ و مالی مراعات دئیے۔۔۔جب کہ پیش امام نواز گلگتی نے 2013 کے انتخابات میں کئ امیدواروں میں سے صرف ساجد طوری کا اعلان کرکے خفیہ والوں کی مدد سے کامیاب کرکے علاقے کے عوام اور انتخابی امیدواروں کو تقسیم کیا۔۔۔
    حقانی نیٹ ورک کو پاراچنار خیوص میں ستمبر2010 میں کروڑوں روپے رشوت لے کر اسلام آباد بارہ کہو میں حقانی نیٹ ورک جلال دین حقانی کے بیٹوں ابراہیم اور نصیر حقانی کے ساتھ جن لوگوں نے معاہدہ کیا.. ان میں ساجد طوری ایم این اے اور ساجد طوری کے چچا لائق طوری سابق پولٹیکل ایجںنٹ وزیرستان اور خفیہ اداروں کے ٹشو پیپر پیش امام نواز گلگتی کے انجمن کے تین افراد شامل تھے جن کے نام ڈیلی ٹائمز میں ڈاکٹر محمد تقی نے تفصیل بیان کی تھی
    Kurram the foresaken FATA (Haqani Network in Kurram) Daily Times, Dr Mohammad Taqi .
    http://archives.dailytimes.com.pk/editorial/04-Nov-2010/comment-kurram-the-forsaken-fata-dr-mohammad-taqi

    The sham Operation in Kurram, Dr M Taqi
    https://iaoj.wordpress.com/2011/07/07/the-sham-operation-in-kurram-dr-mohammad-taqi/

    جس طرح خفیہ اداروں نے وزیرستان و دیگر علاقوں میں طالبان کمانڈرز بیت اللہ و حکیم اللہ کو ٹشو پیپر کی طرح اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا اور پھر ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔۔۔اسی طرح پاراچنار میں بھی مزہب کے نام پر ایک ٹشو پیپر نواز گلگتی ملا کو استعمال کیا جس نے ساجد طوری کا ایم این اے کے سیٹ کے لئے اعلان کیا۔۔۔اور ساجد طوری نے حقانی نیٹ ورک کو پاراچنار میں آباد کرنے کے لئے حکومت و خفیہ اداروں سے تعاون کیا۔۔
    ۔یاد رہے یہ دھرنا جس کی آپ نے تصاویر دئیے ہیں اور غلط انداز یعنی حقانی نیٹ ورک کے خلاف احتجاج کا نام دیا ہے۔۔۔اس دھرنے کے تین مطالبات ہیں
    1 فسادی ملا نواز گلگتی کو واپس پاراچنار لایا جائے
    2 قید شدہ قبائلی رہنماوں کو رہا کیا جائے
    3 پولٹیکل انتظامیہ کو برطرف کیا جائے
    اس ویب سائٹ والوں کو شرم آنی چاہئیے کہ دھرنے کے مطالبات میں حقانی نیٹ ورک کا مطالبہ شامل نہیں۔۔۔(حالانکہ پاراچنار کی عوام کی نوے فیصد اکثریت جو سیاسی و مالی مفادات کے حامل اور خفیہ اداروں کے ٹشو پیپرز نواز گلگتی و ساجد طوری والے دھرنے میں شامل نہیں سب ہی حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہیں۔۔۔اصل میں حقانی نیٹ ورک کو پاراچنار میں آباد کرنے میں ان دو شخصیات اور خفیہ اداروں کے ٹشو پیپرز نواز گلگتی و ساجد طوری کا سب سے بڑا ہاتھ ہے ۔۔۔اگر نہیں ہے تو ساجد طوری اس مسئلے پر قومی اسمبلی میں بات یا پوائنٹ آف آرڈر کیوں نہیں اٹھاتے۔۔۔۔یا کم از کم میڈیا میں ایک بیان و پریس کانفرنس کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔اسی طرح پاراچنار کے عوام کو آپسمیں تقسیم کرکے خفیہ اداروں کا ٹشو پیپرز نواز گلگتی ۔۔۔الطاف حسین کی طرح جمعے کے خطبے میں ٹیلفونک خطاب کرسکتے ہیں۔۔۔اپنے پاراچنار واپس لانے کے لئے دھرنے میں ٹیلفونک خطاب کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔تو پھر حقانی نیٹ ورک کی پاراچنار شلوزان تنگی میں آباد کاری کے خلاف بھی ٹیلفونک خطاب کرکے اپنے پیروکاروں کو اس کے خلاف اٹھنے اور مزاحمت کا کہہ سکتے ہیں ۔۔۔لیکن خفیہ اداروں کے ٹشو پیپر نواز گلگتی کو اس کی توفیق نہیں۔۔۔اسلئے یہ ویب سائٹ غلط رپورٹنگ اور تصویر کا اک رخ پیش کرنے کی بجائے پاراچنار کے اصل دشمنوں سیاسی و مالی مفادات کے حامل اور خفیہ اداروں کے ٹشو پیپرز نواز گلگتی و ساجد طوری آستین کے زہریلی سانپوں کی اصلیت واضح کردیں۔۔۔یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ ماضی میں طالبان کے مظالم بالخصوص گلگت و کوئٹہ اور دیگر جگہوں میں شیعہ قتل عام کے خلاف پاراچنار سمیت پورے ملک میں ملک گیر دھرنے دئیے گئیے اور پاراچنار کے ہزاروں لوگوں نے دھرنے دئیے(لیکن ا اس وقت پاراچنار میں پاراچنار کے اصل دشمنوں سیاسی و مالی مفادات کے حامل اور خفیہ اداروں کے ٹشو پیپرز نواز گلگتی و ساجد طوری اور ان کے پیروکاروں نے کسی بھی دھرنے میں حصہ نہ لیا بلکہ الٹا دھرنوں کی مخالفت کرکے پی اے و کرنل کے ہاتھوں دھرنے والوں کو قید کرلیا)۔۔۔اب پاراچنار کے اصل دشمنوں سیاسی و مالی مفادات کے حامل اور خفیہ اداروں کے ٹشو پیپرز نواز گلگتی و ساجد طوری۔۔۔۔ اب پاراچنار کے اصل دشمنوں سیاسی و مالی مفادات کے حامل اور خفیہ اداروں کے ٹشو پیپرز نواز گلگتی و ساجد طوری کس منہ سے دھرنے دے رہے ہیں اک بار پھر پاراچنار کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لئے۔۔۔
    دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
    اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
    از عنایت علی طوری پاراچنار
    – See more at: http://lubpak.com/archives/319280#sthash.y2ose193.dpuf

Leave a Reply to Inayat Turi Cancel reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s